19 اگست 2014 - 14:03
جوہری مذاکرات، حتمی سمجھوتے کی جانب پیشرفت

گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ ایران کے جوہری مذاکرات کا راستہ کافی دشوار ہے جس کی بناء پر ان مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں کچھ بھی کہنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایران اور گروپ پانچ جمع ایک نے گذشتہ سال چوبیس نومبر کو ایک عارضی جوہری سمجھوتے پر دستخط کئے تھے جس کی بنیاد پر اب حتمی جوہری سمجھوتے کے حصول کیلئے مذاکرات کا عمل جاری ہے۔تہران نے، اعتماد کی بحالی کی غرض سے، آئی اے ای اے کے ساتھ مفاہمت کے دائرے میں جوہری سرگرمیوں کے بارے میں گذشتہ دس برسوں کے دوران جتنے بھی الزامات عائد کئے گئے سب کا اس نے منطفی طور پر جواب دیا ہے اور اس مفاہمت کا آخری مرحلہ پانچ دیگر اقدامات کے ساتھ ایجنڈے میں شامل ہے اور اس سلسلے میں آئی اے ای اے کے سربراہ کے دورۂ تہران میں ایرانی حکام سے ہونے والی ملاقات میں جائزہ بھی لیا گیا ہے اور یوکیا امانو نے اس سلسلے میں فریقین کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو مثبت بھی قرار دیا ہے۔ایران نے پہلے اقدام کے طور پر exploding bridge wire detonators سے متعلق الزام اور اس سلسلے میں پیدا کئے جانے والے مسئلے کو منطقی طریقے سے حل کیا ہے۔ جیسا کہ یوکیا امانو نے بھی تہران میں اپنی پریس کانفرنس میں صراحت کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ ایران نے ایسی دستاویزات اور معلومات فراہم کی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ exploding bridge wire detonators کو تیل و گیس کی صنعت میں استعمال کیا گیا ہے اور تیل و گیس کی بین الاقوامی صنعت میں اس کا استعمال رائج بھی ہے۔دریں اثنا آئی اے ای اے کے بعض مطالبات، منجملہ ایران کی میزائلی توانائی کے بارے میں اس کا مطالبہ بالکل غیر منطقی ہے۔ اس بارے میں ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی میں ایران کے نمائندے رضا نجفی نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ ایران کا میزائلی پروگرام اور دفاعی صنعت، ہماری ریڈ لائن ہے اور گروپ پانچ جمع ایک اور اسی طرح آئی اے ای اے کے ساتھ مذاکرات میں ہم نے صراحت کے ساتھ اعلان بھی کیا ہے کہ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوئی گفتگو نہیں ہوسکتی۔گذشتہ سال جنیوا میں طے پانے والے سمجھوتے سے جوہری مسئلے میں فریقین کے درمیان اختلافات کم اور دونوں کے نظریات ایک دوسرے سے کافی قریب ہوئے ہیں اور ایسی حالت میں جبکہ بعض اختلافات ختم ہوگئے ہیں ابھی بعض مسائل منجملہ یورینیم کی افزودگی کی سطح اور ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بارے میں اختلافات جاری ہیں۔امید کی جاتی ہے کہ فریقین کے درمیان مذاکرات کا نیا دور، سولہ ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل شروع ہوجائے گا۔جنیوا سمجھوتے کی بنیاد پر فریقین کے درمیان طے پایا ہے کہ ایران کے جوہری مسئلے کے حوالے سے، جو بھی سمجھوتہ طے پائے گا اس میں یورینیم کی افزودگی سے متعلق ایران کے حق کی ضمانت فراہم کی جائے گی جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حتمی جوہری سمجھوتے میں بھی یورینیم کی افزودگی سے متعلق ایران کے حق کی ضمانت شامل ہے جبکہ پابندیاں ختم بھی جائیں گی۔ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان چھے ماہ کے مذاکرات کا نتیجہ مجموعی طور پر قابل قبول رہا ہے۔ ابتدائی طور پر عمل میں لائے جانے والے اقدامات سے وہ ماحول ختم ہوگیا ہے جس کے بارے میں ایران کے حلاف فضا سازگار ہونے کا دعوی کیا جارہا تھا اور ایران سیکیورٹی کے خطرے سے بھی باہر نکل آیا ہے جبکہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے کئی ارب ڈالر کو آزاد کرکے ایران منتقل کئے جانے کا مرحلہ بھی ایک مثبت نتیجہ رہا ہے اور ایران کی مذاکراتی ٹیم، اقتدار، اور ایرانی قوم کے حقوق کے تحفظ کے دائرے میں نرمی کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔اور جیساکہ ایران کے ایک جوہری مذاکرات کار مجید تخت روانچی نے کہا ہے، ہم نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں شامل ہورہے ہیں اور کسی سمجھوتے پر پہنچنا بھی چاہتے ہیں تاہم اس سمجھوتے کیلئے ہر قیمت، ادا بھی نہیں کرنا چاہتے۔ایران کے اعلی جوہری مذاکرات کار عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ تہران، سمجھوتے کے حصول کیلئے سنجیدہ ہے جس کیلئے تخلیقی طریقوں سے مسائل، حل کئے جانے کی ضرورت ہے اور جس نتیجے پر بھی پہنجیں گے ایرانی قوم کے مفادات کا تحفظ کریں گے اور اگر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے تو کوئی المیہ رونما نہیں ہوگا اور دنیا ختم نہیں ہوجائے گی۔

.......

/169